Thursday, 10 October 2013

’’جسے تم نے پالیا، بس وہی تمھارا نصیب ہے،۔ باقی سب سراب ہے۔‘‘ کمالی نے اثبات میں سر ہلایا ’’شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سر، مگر پھر یہ پایا ہوا نصیب اپنی کشش کیوں کھو دیتا ہے؟ لاحاصل ہی ہمیشہ پُرکشش کیوں رہتا ہے؟‘‘ میں نے لمبی سانس بھری ’’شاید اس لیے کہ انسان سدا کا ناشکرا ہے۔ اور رہی بات محبت کی تو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ کب رفتہ رفتہ ہماری محبت، شفقت میں بدل جاتی ہے۔ محبت، محبت نہیں رہتی، ایک گہری شفقت بن جاتی ہے۔‘‘ کمالی نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ ’’شفقت۔۔۔ میں سمجھا نہیں سر؟‘‘ ’’ہاں کمالی شفقت، ہماری محبت کہیں کھوتی نہیں ہے بس کسی اور جذبے میں ڈھل جاتی ہے اور ہم باقی ساری زندگی اس شفقت ہی کو محبت سمجھتے یوئے گزار دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہماری زندگی میں کسی نئی محبت کے لیے جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ اور یوں نئی محبتوں کا ڈاکا ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جاؤ کمالی اپنی بیوی، بچوں کو اپنا پورا وقت دیا کرو۔ کیونکہ کہ کبھی کبھی شفقت کا قرض محبتوں کے ادھار سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔‘‘ کمالی چپ چاپ دفتر سے نکل گیا۔

ناول: پری زاد
مصنف: ہاشم ندیم

المطرہ شاہ

 


No comments:

Post a Comment